74

ساہیوال : سٹیج اداکارہ روپ چوہدری کو شوہر نے قتل کر کے خودکشی کرلی

ساہیوال (ساہیوال نیوز – 7 مارچ 2020 . عزیزالرحمن بٹ ایڈووکیٹ سے) بدنام زمانہ فرینڈز تھیٹر نے مزید زندگیاں نگل لیں،سٹیج اداکارہ روپ چوہدری قاتلانہ حملے میں ہلاک،مبینہ طور پر شوہر ہی قاتل نکلا جس نے اداکارہ کو فائرنگ کا نشانہ بناکر خود بھی اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا،عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ تھانہ غلہ منڈی کی حدود میں واقع فرینڈز تھیٹر میں پیش آیا جہاں ہیررانجھا کے عنوان سے جاری شو کے اختتام پر اداکارہ روپ چوہدری اور اس کے شوہر ہاشم کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس پر شوہر نے طیش میں آکر اداکارہ پر فائرنگ کردی جسے شدید زخمی حالت میں مقامی ہسپتال لایا گیا جہاں اس نے دم توڑ دیا دوسری طرف شوہر نے اداکارہ پر فائرنگ کے ساتھ ہی اپنے سر میں بھی گولی داغ لی اور موقع پر جان کی بازی ہار گیا.

بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ سینما علاقے میں غیرقانونی سرگرمیوں کے لیے مشہور ہے،یہاں تماش بین شراب کے نشے میں دھت کباب کے مزے اڑاتے ہیں،سینما والی گلی سے شرفاء کا گزرنا محال ہے،ہر قسم کی منشیات بھی یہاں فراہم کی جاتی ہے اور تماش بینوں کے لطف کو دوبالا کرنے کے لیے شباب سے دل بہلانے کا انتظام بھی کیا جاتا ہے.

یہ سینما علاقے میں امن و امان کی خرابی اور اخلاقی بگاڑ کا سب سے بڑا سبب ہے آج کے وقوعہ سے پہلے بھی یہاں کئی بار لڑائی اور فائرنگ کے واقعات ہوچکے ہیں جن میں کئی افراد زخمی ہوچکے ہیں لیکن سینما مالکان کی پشت پناہی بہت سی نامی گرامی سیاسی شخصیات کرتی ہیں اس لیے ان پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا،بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران و اہلکار ان کے سامنے بھیگی بلی بنے رہتے ہیں جس کے پیچھے بھی یقیناً کوئی گہرا راز پوشیدہ ہے،سینما مالکان علاقے میں ڈان کی سی حیثیت رکھتے ہیں اور اہل علاقہ ان کی ہر بات خوف کی وجہ سے تسلیم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں،گویا کہ فرینڈز سینما کا علاقہ کوئی قبائلی اور خود مختار ریاست ہے جہاں پاکستان کے موجودہ قوانین لاگو ہی نہیں ہوتے.

افسوس ناک امر یہ بھی ہے کہ بہت سے نام نہاد شرفاء و معززین بھی اس گھناؤنے کھیل کا حصہ ہیں،اس سینمے میں دکھائے جانے والے شو نوجوان نسل کے بگاڑ کا سب سے بڑا سبب ہیں بعض اوقات تماش بینوں کے اصرار پر اداکارائیں سٹیج پر اپنے جسم کے پوشیدہ حصوں کی نمائش کرکے داد وصول کرتی ہیں.

غیرقانونی،غیراخلاقی سرگرمیوں کا گڑھ یہ سینما کب تک یوں اپنا تعفن پھیلاتا رہے گا اور نجانے کب قانون کے ہاتھ اس کے مالکان تک پہنچیں گے اہل علاقہ کی آنکھیں پتھرا جانے سے پہلے پہلے متعلقہ حکام کو اس بارے کچھ کرنا ہوگا وگرنہ پانی سر سے گزرنے کو ہے اور ایسا نہ ہو سب کچھ اپنے ساتھ بہا لے جائے.

———————————————————————————————————–

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں