سرکاری سکول تعلیمی میدان میں پیچھے کیوں؟

 سرکاری سکول تعلیمی میدان میں پیچھے کیوں؟

مصنف : ارشد فاروق بٹ
سازگار ماحول تعلم کی بنیادی شرط ہے لیکن جاڑے کے موسم میں جبکہ ہر طرف سردی ، دھند اور بارشوں کا راج ہے اگر سرکاری سکولوں کی حالت زار پر نظر دوڑائی جائے تو اکثر میں بچے کھلے آسمان تلے بیٹھے نظر آئیں گے۔

ان بچوں کی قسمت میں لکھ دیا گیا ہے کہ یہ بچے موسم کی سختیاں جھیلتے ہوئے ہی زیور تعلیم سے آراستہ ہونگے۔ یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ اعلی تعلیم یافتہ سٹاف کے باوجود سرکاری سکولوں کا تعلیمی گراف بہتر کیوں نہیں ہے؟ ذیل میں کچھ وجوہات کا ذکر کیا جا رہا ہے جن پر توجہ نہ دی گئی تو یہ سکول مزید زوال پذیر ہونگے۔

1۔ ریشنلائزیشن میں تاخیر
صوبائی وزیر تعلیم پنجاب ڈاکٹر مراد راس نے گزشتہ برس اگست میں انکشاف کیا تھا کہ اکثر سرکاری سکولوں میں اضافی اساتذہ تعینات ہیں جنہیں اگر ان سکولوں میں بھیج دیا جائے جہاں اساتذہ کی کمی ہے تو معیار تعلیم میں واضح بہتری نظر آئے گی۔

یہ اساتذہ ظاہر ہے سرکاری سرپرستی میں اپنے من پسند سکولوں میں تعینات ہیں۔ لیکن جب ریشنلائزیشن کا عمل شروع ہوا تو سیاسی دباؤ کے باعث اس خیال کو ترک کر دیا گیا۔

2۔ بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کی ناقص پالیسیاں
پنجاب میں آج بھی سینکڑوں ایسے سکول موجود ہیں جن کی چار دیواری تک نہیں ہے۔ لوگ ان میں اپنی گائیں بھینسیں باندھتے ہیں۔ کئی ایک سکولوں میں کمروں کی تعداد پوری نہیں ہے۔ اور اکثر سکولوں کی عمارتیں سو سال سے بھی پرانی ہیں۔ لیکن بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ ان مسائل پر قابو پانے میں ناکام ہے۔

3۔ گھوسٹ سکول کونسلز
محکمہ تعلیم کی پالیسی کے مطابق ہر سکول میں ایک کونسل بنائی جاتی ہے جو بورڈ آف گورنرز کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ کونسل حکومت کی طرف سے سکول کو دیے گئے بجٹ کو احسن انداز میں خرچ کرنے کے لیے مشورے دیتی ہے اور رقم کو خوردبرد سے بچانے کے لیے منصوبہ جات کی شفافیت کو یقینی بناتی ہے۔ لیکن بیشتر سکولوں میں یہ کونسل محض کاغذات میں موجود ہوتی ہے۔ جن کے دستط بھی ایک ہی شخص کرتا ہے اور وہ سکول کا ہیڈ ہوتا ہے۔

4۔ فروغ تعلیم فنڈ کی عدم دستیابی
فروغ تعلیم فنڈ جس کو ایف ٹی ایف بھی کہتے ہیں، اس رقم کو کہا جاتا ہے جو بچے سکول فیس کی مد میں ادا کرتے ہیں۔ یہ رقم ان بچوں کے یونیفارم اور کتابوں کاپیوں وغیرہ پر خرچ ہونی چاہئے جو مستحق ہیں۔ لیکن یہ رقم بھی ہیڈ صاحبان کو جمع کرا دی جاتی ہے۔ اور عملی طور پر بچوں پر خرچ نہیں ہوتی۔

5۔ این ایس بی (نان سیلری بجٹ) کا ضیاع
ہر سکول کو اپنے اخراجات چلانے کے لیے حکومت این ایس بی کی صورت میں کم و بیش پانچ لاکھ روپے سے زائد سالانہ رقم فراہم کرتی پے۔ یہ رقم بھی بڑی مقدار میں خوردبرد ہو جاتی ہے اور سکولوں کے کسی کام نہیں آتی۔ سکولوں میں بچے پڑھائی کی بجائے مزدوری کرتے نظر آتے ہیں۔ کوئی جھاڑو دے رہا ہوتا ہے تو کوئی کیاریاں بناتا۔ این ایس بی کس مرض کی دوا ہے بھئی؟

6۔ ٹیکنالوجی کا عدم استعمال
پروجیکٹر تو دور کی بات بیشتر سرکاری سکولوں میں کمپیوٹر لیب تک دستیاب نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچے عملی تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔

7۔ لیسن پلاننگ کی کمی
نجی سکولوں کے برعکس سرکاری سکولوں میں لیسن پلاننگ پر توجہ نہیں دی جاتی۔ نہ ہی اساتذہ کے لیے سالانہ ٹریننگ یا ریفریشر کورسز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری سکولوں کے اساتذہ جدید تدریسی طریقوں سے ناواقف ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں اگر (پیلی) یا اسی طرز کی ٹریننگ کا اہتمام کیا بھی جائے تو اس کے لیے پروفیشنلز کو ہائیر نہیں کیا جاتا۔

8۔ یونیفارم
حکومت آج تک یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ سرکاری سکولوں میں یونیفارم انگریزی ہونا چاہئے یا مقامی۔ چونکہ ان سکولوں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور بیشتر سکول دیہاتوں میں بنائے گئے ہیں اس لیے یونیفارم کا مقامی ورژن زیادہ موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اکثر کلاسیں گراونڈز میں بیٹھتی ہیں جہاں بچے پینٹ شرٹ کی بجائے قمیض شلوار میں زیادہ سہولت محسوس کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں مقامی لباس کی ترویج حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے۔

9۔ بہتر کارکردگی پر انعامات
نجی اداروں کی طرح سرکاری سکولوں میں بھی بہتر کارکردگی پر کیش انعامات کا سلسلہ شروع کیا جانا چاہئے۔ جو یقینا اساتذہ میں بہتر کارکردگی اور تحریک کا باعث ہو گا۔

10۔ کلرک مافیا
مشہور ضرب المثل منی میکس میئر گو ، اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ محکمہ تعلیم میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ اگر آپ کلرک کی مٹھی گرم نہیں کر سکتے تو اس کا آپ پر گرم ہونا یقینی ہے۔ یہ مافیا اس قدر مضبوط ہے کہ ڈی ای او صاحبان بھی ان کے آگے بے بس ہیں۔ اگرچہ موجودہ حکومت نے تمام سسٹم آن لائن کر کے اس مافیا پر کاری ضرب لگائی ہے تاہم اب بھی اکاؤنٹ آفسز میں پیسہ بولتا ہے۔

11۔افسران کی سرد مہری
پاکستان میں بالعموم اور محکمہ تعلیم میں بالخصوص افسر شاہی پورے تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کر رہی ہے۔ افسران بالا کا سرد مہری پر مبنی رویہ مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ انہیں نہ تو بچوں اور اساتذہ کے مسائل سے کوئی سروکار ہے نہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں کوئی دلچسپی۔

ہیڈ صاحبان اور ان افسران کے درمیان مس کمیونیکیشن ایسی حقیقت ہے جس کا رونا ہر ہیڈ روتا نظر آتا ہے۔ اکثراوقات ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی میٹنگ کی اطلاع 2 گھنٹے قبل دی جاتی ہے اور دوسری تحصیلوں کے ہیڈ صاحبان جب راستے میں ہوتے ہیں تو میٹنگ کینسل کا پیغام آ جاتا ہے۔

بیشتر افسران کو محض اپنی پرکشش سیلری سے دلچسپی ہے۔ ورنہ درج بالا مسائل کب کے حل ہو چکے ہوتے۔

Saad

https://sahiwalnews.com.pk

سعد رمضان ہمیں ساہیوال و گردونواح کی خبروں سے اپڈیٹ رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے