میرا جسم میری مرضی کیا ہمارا مسئلہ ہے؟

السلام علیکم فرینڈز ۔ آج کی ویڈیو میں اس ٹاپک پر بنا رہی ہوں جس کو لے کے سوشل میڈیا پر طوفان سا برپا ہے۔ دو روز قبل ایک ٹی وی شو میں خلیل الرحمان قمر اور سوشل ایکٹوسٹ ماروی سرمد نے آپس میں گالی گلوچ کی ہے۔ اس کے بعد سے کچھ لوگ خلیل الرحمان قمر کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں اور کچھ "میرا جسم میری مرضی” کے آرٹیکل پوسٹ کر رہے ہیں۔

اس بارے میں میں کہوں گی کہ پہلی بات جو لائیو شو میں ہوا وہ قابل مذمت ہے۔ ٹی وی چینلز کو ریٹنگ چاہیے جو انہیں مل گئی۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر جو جنگ چھڑ گئی ہے وہ تصاویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ پاکستان میں خواتین کو بہت سے حقوق حاصل نہیں ہیں جو ملنے چاہیئں۔ لیکن اس کا قصوروار صرف مردوں کو ٹھہرانا درست نہیں۔ این جی اوز کا پرابلم یہ ہے کہ ان کو فارن فنڈنگ ملتی ہے اور انکی بیشتر ڈیمانڈز وہیں سے آتی ہیں جن کا ہمارے سماج سے تعلق نہیں ہوتا۔

آج کے پاکستان میں ہر گھر میں لڑکیوں کو تعلیم کے یکساں مواقع حاصل ہیں۔ ہر پروفیشن میں لڑکیاں لڑکوں کو کمپیٹ کر رہی ہیں۔ جرنلزم، سی ایس ایس اور میڈیکل فیلڈ میں لڑکیوں کی بڑی تعداد روزگار سے وابستہ ہے۔ تو پھر پرابلم کہاں ہے؟

پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی جرائم اور عورت کے استحصال کی کمی نہیں، آج بھی سندھ میں لڑکیوں کو ونی کر دیا جاتا ہے۔ بیشتر لڑکیوں کو پراپرٹی میں حصہ نہیں دیا جاتا۔ ان کے چہروں پر تیزاب پھینکا جاتا ہے اور انکی عزت محفوظ نہیں۔

کیا این جی اوز ان مسائل پر کام کر رہی ہیں؟

جیسا کہ میں نے پہلے کہا این جی اوز کا پرابلم یہ ہے کہ جو انہیں فنڈنگ کرتا ہے وہی چارٹر آف ڈیمانڈز سیٹ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے انکی ڈیمانڈز کچھ اور ہیں۔

طلاق کی خواہش، نکاح سے نفرت، مذہب سے بے زاری اور مرد سے نفرت ہی اگر ان کے نزدیک ہر مسئلے کا حل ہے تو عورت کو متبادل کونسی دنیا فراہم کریں گے؟ مذہب اسلام کو نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟

اور ان این جی اوز میں نوکری کرتے کچھ مرد گلے میں پٹا ڈلوا کر تصاویر تو بنوا سکتے ہیں لیکن نجی محفلوں میں ان کے خیالات کچھ اور ہوتے ہیں۔

ان کی ڈیمانڈز نے ان تمام والدین کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے جو اپنی بیٹیوں کے بہتر مستقبل کے لیے دن رات ایک کر رہے ہیں۔ یہ ویڈیو میں ایک یونیورسٹی ہوسٹل سے بنا رہی ہوں
And i am proud of my parents.
آج کے لیے اتنا ہی اس دعا کے ساتھ کہ ہر بیٹی سلامت رہے۔ اللہ حافظ۔

Saad

https://sahiwalnews.com.pk

سعد رمضان ہمیں ساہیوال و گردونواح کی خبروں سے اپڈیٹ رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے