مسلم لیگ ن کا بیانیہ اب کیا ہو گا؟

 مسلم لیگ ن کا بیانیہ اب کیا ہو گا؟

تحریر : ارشد فاروق بٹ
کہتے ہیں کہ سیاہ ست کے سینے میں دل اور آنکھوں میں شرم نہیں ہوتی. اپنے آپ کو ناگزیر سمجھنے والے کتنے ہی جمہوری و ملٹری آمر آئے اور چلے گئے. کسی کے پاس رکنے اور سوچنے کی فرصت نہیں. کئی سیاسی جوڑ توڑ ہوئے، پارٹیاں بنیں اور صفحہ ہستی سے مٹ گئیں. لیکن نظریات زندہ رہے. یہ نظریات ہی ہیں جو کسی نہ کسی طرح ملک کی دو بڑی پارٹیوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں.

پاکستان پیپلز پارٹی کے برعکس پاکستان مسلم لیگ ن اس وقت زیادہ شدت سے اندرونی و بیرونی ٹوٹ پھوٹ کی شکار نظر آتی ہے. پیپلز پارٹی کو قیادت کے مسائل درپیش نہیں ہیں. لیکن مسلم لیگ ن کی کشتی اس وقت دو بھائیوں کے درمیان ہچکولے کھا رہی ہے. بحران در بحران کے بعد یوں لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن کو اب اگر کوئی چیز بچا سکتی ہے تو وہ حکومت کی ناقص کارکردگی ہی ہو گی.

اس کشمکش میں پاکستان مسلم لیگ ن کا بیانیہ کیا رخ اختیار کرے گا. اور کیا مسلم لیگ ن کا کوئی بیانیہ ہے بھی یا محض حالات کی ستم ظریفی نے کسی بیانیے کی تشکیل کی تھی؟

"ووٹ کو عزت دو” کا سفر آرمی ایکٹ میں تبدیلی کی حمایت پر ختم ہوا جس پر لیگی قیادت کو شدید تنقید کا سامنا ہے. لیگی قیادت نے موقع غنیمت جانتے ہوئے عوام کو بہت سی باتیں باور کرا دی ہیں. بقول شاعر

اے خوگر حمد تھوڑا سا گلہ بھی سن لے

سرگرم لیگی لیڈر نہال ہاشمی کئی ایک باتوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ لیگی قیادت پر تنقید سے پہلے عوام خود احتسابی کریں. ترکی کی مثالیں دینے سے پہلے یہ بھی دیکھیں کہ ترکی میں مارشل لا کو کسی لیڈر نے نہیں بلکہ عوام نے ٹینکوں کے آگے لیٹ کر روکا تھا. جبکہ قدم بڑھاؤ کا نعرہ لگانے والے وقت آنے پر نوازشریف کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے. بلکہ آمریت کے آنے پر مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں.

انہوں نے پارلیمنٹ میں موجود اپنے ممبران کی مجبوریوں کا بھی تذکرہ کیا. سیاستدان کروڑوں روپے خرچ کر کے اور لوگوں سے وعدے کر کے انتخاب میں فتح حاصل کرتے ہیں. اپنے مختصر پارلیمانی دور میں انہوں نے نہ صرف عوام سے کیے گئے وعدے نبھانے ہوتے ہیں بلکہ اپنی سرمایہ کاری کو بھی ڈوبنے سے بچانا ہوتا ہے. مسلم لیگی پارلیمنٹیرینز پچھلے تین سال سے بیانیے سے پیدا ہونے والے مسائل کے باعث عوام سے کیے گیے وعدے پورے نہیں کر سکے. اس لیے ان کی خواہش تھی کہ بیانیے کو ایک طرف رکھ کر ان حالات میں جو ملتا ہے اسے حاصل کیا جائے.

نہال ہاشمی کی رائے کسی حد تک درست ہو سکتی ہے. لیکن بطور جواب شکوہ انہیں تاریخ کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے. یہ عوام ہی ہے جس نے 2008 کے انتخابات میں کنگز پارٹی کا صفایا کیا اور حقیقی جمہوری پارٹیوں کو پارلیمنٹ میں پہنچایا. لیکن آج جب ہم خبریں سنتے ہیں کہ گریڈ 17 سے 21 تک کے سینکڑوں افسران بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے غریب بن کر مستفید ہوتے رہے اور پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور کے بعد یہ سلسلہ مسلم لیگ ن کے دور میں بھی چلتا رہا توبیانیے پر سوال تو اٹھیں گے. بھارتی جاسوس کی گرفتاری پر کس مجبوری نے آپ کے ہونٹوں کو سیے رکھا. ووٹ کو عزت دینے پر کسی کو اعتراض نہیں لیکن "دشمن کو عزت دو” بھی ہمیں کسی طور قبول نہیں. آپ کی جنگ آمریت کے خلاف رہتی تو بہتر ہوتا لیکن الطاف حسین کے نقش قدم پر چلنے کا انجام یہی ہونا تھا.

ترکی میں اگر عوام ٹینکوں کے آگے لیٹ جاتے ہیں تو اس کا کریڈیٹ بھی طیب اردگان کو ہی جاتا ہے، آپ بھی طیب اردگان بن جائیں عوام آپ کا تحفظ بھی اسی طرح کرے گی. محض باریاں لینے اور لوٹنے کے لیے آنے والی سیاسی پارٹیوں کے نام نہاد بیانیے کے لیے عوام باہر کیوں نکلیں؟

اسلام آباد میں اقتدار کے راستے راولپنڈی سے ہو کر جاتے ہیں. واقفان حال کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کا نیا بیانیہ راولپنڈی دوستانہ ہو گا. مزاحمت دم توڑ چکی، بوقت ضرورت متبادل قیادت کو عمرانی سیاہ ست کے خلاف استعمال کیا جا وے گا. تاہم لیگی قیادت کو چاہیے کہ نیا بیانیہ تشکیل دینے سے قبل خوب غوروخوض کر لیں ورنہ یہ عمر بھر کا یہ سفر رائیگاں تو ہے.

Saad

https://sahiwalnews.com.pk

سعد رمضان ہمیں ساہیوال و گردونواح کی خبروں سے اپڈیٹ رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے