Home / اردو ادب / کاش کہ خوشیاں بکتی ہوتیں
urdu poetry

کاش کہ خوشیاں بکتی ہوتیں

کاش کہ خوشیاں بکتی ہوتیں۔۔
اور دکھوں کا ٹھیلا ہوتا۔۔
ایک ٹکے میں آنسو آتے۔۔
اور محبت چار ٹکے میں۔۔
(پانچ ٹکے میں ساری دنیا)۔۔

مفت ہنسی اور مفت ستارے۔۔
چاند بھی ٹکڑے ٹکڑے بکتا۔۔
خواہش نام کی چیز نا ہوتی۔۔
ہاتھ بڑھا کے سب ملتا۔۔
ہم چاہتے تو مر جاتے ناں۔۔!
جی چاہتا تو جیتے رہتے۔۔
اونچے نیچے شہر نا ہوتے۔۔
پانی پر بھی گھر ہوتے۔۔
(کاش کے اپنے پر ہوتے)۔۔!!
اور وہ گہرا نیلا امبر،
سات سمندر پار کے ساحل۔۔
جنگل، ندیاں، گرتا پانی۔۔
سب کچھ اپنا دھن ہوتا۔۔
کسی بھی چیز کی حد نا ہوتی۔۔
وہ کرتے جو من ہوتا۔۔
چاند کی کرنیں پہن کے جگتے۔۔
اور خاموشی اوڑھ کے سوتے۔۔
راتیں دن بھر رکتی ہوتیں۔۔
کاش کے خوشیاں بکتی ہوتیں۔۔!!!

About Muhammad Saeed

Avatar
I am Muhammad Saeed and I’m passionate about world and education news with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind Sahiwal News with a vision to broaden the company’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Mehar Abad Colony, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Phone: (+92) 300-777-2161 Email: admin@sahiwalnews.com.pk

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے